صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۳ - ابو لہب کا جواب
تبت یدا ابی لہب: ابو لہب کے رد عمل کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۹۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۷۳
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ، فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1 إِلَى آخِرِهَا " .
ابن عباس روایت:
ابولہب نے کہا تھا کہ تو تباہ ہو۔ کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر یہ آیت «تبت يدا أبي لهب» نازل ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ابو لہب اور سورۃ المسد ہے۔ روایت مختصر ہے، مگر پیغام صاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا: تو تباہ ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اس پر آیت تبت يدا أبي لهب نازل ہوئی۔ اس حدیث میں ابو لہب کی حدیث، تبت یدا ابی لہب، سورۃ لہب کا شان نزول اور دعوت کے جواب میں مخالفت کا ذکر آتا ہے۔ چونکہ اس روایت میں تفصیل کم ہے، اس لیے اسی کے اندر رہتے ہوئے بات سمجھنی چاہیے۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے دعوت دی، ابو لہب نے سخت کلامی کی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے رد عمل پر آیت نازل فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت کے جواب میں ابو لہب نے سخت الفاظ کہے۔
- اس رد عمل کے بعد سورۃ المسد کی آیت نازل ہوئی۔
- حق بات کا مذاق اڑانا بہت سنگین معاملہ ہے۔
- روایت مختصر ہو تو اسی کے مطابق بات کرنی چاہیے، اضافی تفصیل نہیں جوڑنی چاہیے۔
