صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۶ - بیماری میں معوذات پڑھ کر دم
بیماری میں معوذات پڑھ کر دم کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۱۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے (اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا) پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے۔ دم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم پڑھتے اور پھونکتے۔ پھر جب مرض الموت میں آپ صلى الله عليه وسلم کی تکلیف زیادہ ہوئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا خود یہ سورتیں پڑھتیں اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ہاتھوں سے آپ کے جسم مبارک پر پھیرتیں، آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید رکھتے ہوئے۔ اس حدیث میں معوذات کی فضیلت، بیماری میں قرآن پڑھ کر دم، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل کا بیان ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ بیماری کے وقت معوذات پڑھنا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت عمل ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ علاج اور دعا کے ساتھ قرآن کی تلاوت دل کو سہارا دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری میں معوذات پڑھ کر دم کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے تکلیف بڑھنے پر نبی صلى الله عليه وسلم پر معوذات پڑھیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ کی برکت کی امید اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
- دم کے معاملے میں وہی طریقہ معتبر ہے جو سنت سے ثابت ہو۔
