صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۹ - نبی صلى الله عليه وسلم نے قرآن ہی چھوڑا

نبی صلى الله عليه وسلم نے جو وحی متلو چھوڑی وہ قرآن میں محفوظ ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۱۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ شَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ : أَتَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : " مَا تَرَكَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ " ، قَالَ : وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : " مَا تَرَكَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ " .

عبدالعزیز بن رفیع روایت:

میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآن کے سوا کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحی متلو) جو کچھ بھی چھوڑی ہے وہ سب کی سب ان دو گتوں کے درمیان صحیفہ میں محفوظ ہے عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو دفتیوں کے درمیان (قرآن مجید کی شکل میں) محفوظ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ وہ شداد بن معقل کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس قرآن کے علاوہ کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ چھوڑا، وہ اسی صحیفے میں ہے جو دو گتوں کے درمیان محفوظ ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ جو کچھ آپ صلى الله عليه وسلم نے چھوڑا، وہ دو دفتیوں کے درمیان ہے۔ اس حدیث میں قرآن کے محفوظ متن، وحی متلو، اور اس بات کی وضاحت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی طرف سے قرآن کی شکل میں جو چیز امت کے پاس ہے، وہ مصحف میں محفوظ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی وحی متلو مصحف میں محفوظ ہے۔
  • اسی سوال پر محمد بن حنفیہ نے بھی یہی جواب دیا۔
  • قرآن کے بارے میں سوال ہو تو صحابہ اور اہل علم سے پوچھا گیا۔
  • حدیث کا مرکزی مضمون قرآن کے محفوظ ہونے سے متعلق ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں