صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۰ - قرآن پڑھنے والے کی مثال

قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال: خوشبو اور اچھا ذائقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۲۰

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَالَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا " .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی (مومن کی) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار (منافق) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۲۰ کا خلاصہ

یہ حدیث قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے لوگوں کی مثالیں دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو مومن قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال سنگترے جیسی ہے، جس کا مزہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے۔ جو مومن قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال کھجور جیسی ہے، مزہ اچھا ہے مگر خوشبو نہیں۔ جو فاجر قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال ریحانہ جیسی ہے، خوشبو اچھی مگر مزہ کڑوا۔ اور جو فاجر قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، مزہ بھی کڑوا اور خوشبو بھی نہیں۔ اس حدیث میں قرآن کی تلاوت کے اثر کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ قرآن پڑھنا انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کے لیے اچھی نسبت رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال خوشبو اور اچھے ذائقے والی چیز سے دی گئی ہے۔
  • مومن اگر قرآن نہ پڑھے تو ایمان کی خیر موجود ہے، مگر تلاوت کی خوشبو نہیں۔
  • فاجر کے بارے میں حدیث نے قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے دونوں حالتوں کی مثال دی۔
  • قرآن کی تلاوت انسان کی دینی حالت کو بہتر ظاہر کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں