صحیح بخاری حدیث ۵۰۵۵ - سورۃ النساء سن کر نبی صلى الله عليه وسلم کے آنسو
سورۃ النساء کی تلاوت اور نبی صلى الله عليه وسلم کے آنسو
صحیح بخاری : ۵۰۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۵۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ،قَالَ الْأَعْمَشُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ عَلَيَّ ، قَالَ : قُلْتُ : أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ، قَالَ : إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ، قَالَ : فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 ، قَالَ لِي : كُفَّ أَوْ أَمْسِكْ ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ " .
اعمش روایت:
میں نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا تو خود ابراہیم سے سنا اور ایک ٹکڑا اس حدیث کا مجھ سے عمرو بن مرہ نے نقل کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں کیا تلاوت کروں آپ پر تو قرآن مجید نازل ہی ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔راوی نے بیان کیا کہ پھر میں نے سورۃ نساء پڑھی اور جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) «كف» فرمایا یا «أمسك» راوی کو شک ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھو۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ کے سامنے کیسے پڑھوں، آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کسی اور سے سنوں۔ پھر انہوں نے سورۃ النساء پڑھی۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے جس میں ہر امت سے گواہ لانے اور نبی صلى الله عليه وسلم کو ان لوگوں پر گواہ بنانے کا ذکر ہے، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں روک دیا۔ راوی کے الفاظ میں شک ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے “رک جاؤ” فرمایا یا “بس کرو”۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ حدیث قرآن سننے، آیات کے اثر، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے نرم دل ہونے کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم قرآن کو دوسروں سے سننا پسند فرماتے تھے۔
- سورۃ النساء کی آیت نے نبی صلى الله عليه وسلم پر گہرا اثر کیا۔
- قرآن سننے میں دل کی حاضری ہونی چاہیے۔
- حدیث میں راوی کے شک کو بھی امانت سے نقل کیا گیا ہے۔
