صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۹ - آزادی کو مہر قرار دینا
آزادی کو مہر قرار دینے کی حدیث اور سادہ ولیمہ
صحیح بخاری : ۵۱۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۶۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا مختصر مگر اہم بیان آیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، پھر ان سے نکاح کیا، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔ اس روایت میں مہر کی ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے، یعنی آزادی کو مہر بنایا گیا۔ ساتھ ہی ولیمہ کی سادگی بھی سامنے آتی ہے کہ دعوت میں ملیدہ پیش کیا گیا۔ اس حدیث کو مہر کی حدیث، صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح، اور ولیمہ کی سادگی جیسے موضوعات میں پڑھا جاتا ہے۔ ہمیں صرف وہی بات سمجھنی چاہیے جو متن میں آئی ہے: آزادی، نکاح، مہر اور سادہ ولیمہ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں آزادی کو مہر قرار دینے کا خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
- نکاح کے بعد ولیمہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں شامل تھا۔
- ولیمہ میں سادہ کھانا بھی کافی ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں صفیہ رضی اللہ عنہا کے احترام اور نکاح کا واضح ذکر ہے۔
