صحیح بخاری حدیث ۴۲۱۳ - سادہ ولیمہ اور پردہ
صفیہ رضی اللہ عنہا کا سادہ ولیمہ اور پردے کا اہتمام
صحیح بخاری : ۴۲۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۱۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ , سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ ، فَبُسِطَتْ ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، قَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (مقام سد الصہباء میں) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا۔مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے بعد ولیمہ کا سادہ واقعہ آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین رات قیام فرمایا۔ انس رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ اس ولیمہ میں نہ روٹی تھی نہ گوشت، بلکہ دستر خوان بچھایا گیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھا گیا۔ مسلمانوں کے درمیان یہ بات ہوئی کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں۔ پھر جب کوچ کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی سواری پر جگہ دی اور ان کے لیے پردہ کیا۔ اس سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں۔ اس روایت میں سادہ ولیمہ، صفیہ رضی اللہ عنہا کا مقام، اور پردے کا اہتمام بنیادی باتیں ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ سادہ کھانے کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے سواری اور پردے کا اہتمام فرمایا۔
- اس واقعے میں پردہ ان کے ام المؤمنین ہونے کی علامت بنا۔
