صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۲ - قمری مہینہ انتیس دن بھی ہو سکتا ہے
قمری مہینے کی مدت: انتیس دن بھی مکمل مہینہ
صحیح بخاری : ۵۲۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا ، قَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا " .
ام سلمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک واقعہ کی وجہ سے) قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح کے وقت گئے یا شام کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صبح یا شام ان کے پاس تشریف لے گئے۔ عرض کیا گیا کہ آپ نے ایک مہینہ نہ آنے کی قسم کھائی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اصل بات قمری مہینے کی مدت ہے۔ شرعی مہینہ چاند کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے کبھی تیس اور کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے۔ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ مدت، قسم، اور گھریلو معاملات میں صحیح شرعی سمجھ ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
- مدت کے حساب میں چاند کے مہینے کو سمجھنا چاہیے۔
- قسم کے معاملے میں درست وضاحت اہم ہے۔
- گھریلو واقعے کو شرعی اصول کے ساتھ سمجھا گیا۔
