صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۱ - مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے

مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے: ایلاء کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۰۱

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ ، قَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک الگ رہے اور اپنے ایک بالاخانہ میں قیام کیا۔ پھر آپ انتیس دن کے بعد گھر میں تشریف لائے تو کہا گیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے عہد کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس (29) کا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعے کا ذکر ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک الگ رہے اور اپنے ایک بالاخانے میں قیام فرمایا۔ جب آپ انتیس دن کے بعد تشریف لائے تو عرض کیا گیا کہ آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے عہد کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مہینہ انتیس دن کا بھی ہونا ہے۔ اس میں ایلاء کا واقعہ، مدت کا حساب، اور قمری مہینے کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ ہمیں اس روایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ شریعت میں مہینہ ہمیشہ تیس دن کا نہیں ہوتا، کبھی انتیس دن بھی مکمل مہینہ ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
  • قسم یا مدت کے معاملے میں شرعی حساب کا خیال رکھا جائے۔
  • بات سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت لی گئی۔
  • واقعے کو افواہ کے بجائے اصل جواب سے سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں