صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۰ - ہر شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے

گھر اور بچوں کی ذمہ داری: کلکم راع حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۰۰

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْأَمِيرُ رَاعٍ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر (حاکم) ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۰ کا خلاصہ

یہ حدیث ذمہ داری کی حدیث کا ایک اور بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر اپنی ذمہ داری رکھتا ہے، مرد اپنے گھر والوں پر ذمہ دار ہے، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر ذمہ دار ہے۔ اس روایت میں خاص طور پر گھر اور بچوں کا ذکر آتا ہے، اس لیے یہ گھر کی تربیت، حفاظت، دیکھ بھال اور امانت کا واضح پیغام دیتی ہے۔ اسلام میں ذمہ داری صرف باہر کے عہدے کا نام نہیں، بلکہ گھر کے اندر بھی ہر شخص کا ایک دائرہ ہے جس کے بارے میں سوال ہو گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر شخص اپنے دائرے میں جواب دہ ہے۔
  • گھر اور بچے امانت ہیں۔
  • مرد اور عورت دونوں کی گھریلو ذمہ داریاں ہیں۔
  • ذمہ داری کو معمولی سمجھ کر چھوڑنا درست نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں