صحیح بخاری حدیث ۵۲۱۷ - وفات سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کا دن
مرض وفات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام
صحیح بخاری : ۵۲۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۱۷
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس مرض میں وفات ہوئی، اس میں آپ پوچھا کرتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ کو عائشہ کی باری کا انتظار تھا۔ چنانچہ آپ کی تمام ازواج نے آپ کو اس کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آ گئے اور یہیں آپ کی وفات ہوئی۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دن وفات ہوئی جو میری باری کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی احسان دیکھو اس نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میرے سینے پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن میرے لعاب دہن سے ملا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مرض وفات کے دوران ازواج مطہرات کی اجازت اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پوچھتے تھے کہ کل میری باری کس کے یہاں ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار فرماتے تھے۔ پھر تمام ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ صلى الله عليه وسلم جہاں چاہیں بیماری کے دن گزاریں۔ آپ صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے آئے اور وہیں وفات ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ وفات اسی دن ہوئی جو ان کی باری کا دن تھا، اور آپ صلى الله عليه وسلم کا سر مبارک ان کے سینے کے قریب تھا۔ حدیث کا پیغام اجازت، محبت اور گھر کی ترتیب سے جڑا ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرض کے دنوں میں ازواج مطہرات نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اپنی مرضی سے قیام کی اجازت دی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار فرماتے تھے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے وفات کے وقت کی بات نہایت محبت سے بیان کی۔
