صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۷ - نئی شادی اور گھر واپسی کے آداب
نئی شادی، سفر سے واپسی اور گھر داخل ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۴۷
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ : أَتَزَوَّجْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فَقَالَ : أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (غزوہ تبوک) میں تھے۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی، مارا۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا، کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو وہ موئے زیر ناف صاف کر لے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ وہ غزوہ سے واپسی پر مدینہ کے قریب اپنے اونٹ کو تیز چلا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کے بارے میں پوچھا اور پھر جب مدینہ پہنچنے کا وقت آیا تو صحابہ کو فوراً داخل ہونے سے روکا۔ وجہ یہ بتائی کہ عورتیں اپنے بال سنوار لیں اور جن کے شوہر غیر حاضر رہے ہوں وہ صفائی کر لیں۔ یہ حدیث نئی شادی کی حدیث، گھر واپسی کے آداب اور ازدواجی زندگی میں خیال رکھنے کا سبق دیتی ہے۔ اس میں گفتگو بھی نرم ہے اور رہنمائی بھی بہت عملی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازدواجی زندگی میں شوہر کو بیوی کے آرام اور تیاری کا خیال رکھنا چاہیے۔
- لمبے سفر کے بعد گھر داخل ہونے میں مناسب وقت کا انتظار بہتر ہو سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ذاتی معاملات میں بھی نرمی سے رہنمائی فرماتے تھے۔
