صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۰ - چار ماہ کے بعد رجوع یا طلاق

ایلاء کا حکم: چار ماہ کے بعد فیصلہ ضروری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۹۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ فِي الْإِيلَاءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَ الْأَجَلِ إِلَّا أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلَاقِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . وقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ حَتَّى يُطَلِّقَ " ، وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ ، وعَلِيٍّ ، وأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وعَائِشَةَ ، واثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

نافع روایت:

ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ایلاء کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، فرماتے تھے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں، سوا اس کے کہ قاعدہ کے مطابق (اپنی بیوی کو) اپنے پاس ہی روک لے یا پھر طلاق دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا کہ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ چار مہینے گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے اور عثمان، علی، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۰ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس ایلاء کا ذکر فرمایا، اس میں مدت پوری ہونے کے بعد آدمی کے لیے یہی جائز ہے کہ یا تو معروف طریقے سے بیوی کو اپنے پاس رکھے یا طلاق کا ارادہ کرے۔ اسی روایت کے دوسرے حصے میں ہے کہ جب چار مہینے گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دے، اور طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی جب تک وہ طلاق نہ دے۔ اس حدیثی بیان کا مرکزی موضوع ایلاء، رجوع اور طلاق ہے۔ یہاں متن کا زور اس بات پر ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد معاملہ لٹکایا نہ جائے، بلکہ شرعی طریقے سے فیصلہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایلاء میں چار ماہ گزرنے کے بعد معاملہ فیصلہ طلب ہو جاتا ہے۔
  • بیوی کو معروف طریقے سے رکھنا ایک راستہ ہے۔
  • اگر جدائی مقصود ہو تو طلاق دینی ہو گی۔
  • روایت کے مطابق طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک دی نہ جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں