صحیح بخاری حدیث ۵۲۸۹ - مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
ایلاء اور قمری مہینہ: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
صحیح بخاری : ۵۲۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۸۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلَيْتَ شَهْرًا ، فَقَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ایلاء کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا، اور آپ کے پاؤں میں موچ تھی، اس لیے آپ بالا خانے میں ٹھہرے۔ آپ صلى الله عليه وسلم وہاں انتیس دن رہے، پھر نیچے تشریف لائے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس حدیث کا اہم سبق یہ ہے کہ اسلامی مہینہ قمری حساب سے ہوتا ہے اور ہر مہینہ لازماً تیس دن کا نہیں ہوتا۔ یہاں اصل بات ایلاء کے واقعے کے ساتھ قمری مہینے کی مدت کا بیان ہے، اس لیے تشریح کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- ایلاء کے واقعے میں مدت کا حساب واضح کیا گیا۔
- صحابہ نے سوال کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر جواب دیا۔
- شرعی مدتوں میں قمری حساب کو سمجھنا ضروری ہے۔
