صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۵ - مظلوم لڑکی کے اشارے سے قاتل کی پہچان
قصاص کی حدیث: مظلوم کے اشارے سے سچائی تک پہنچنا
صحیح بخاری : ۵۲۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۹۵
وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَارِيَةٍ ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا ، وَرَضَخَ رَأْسَهَا ، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَكِ ؟ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا ، فَأَشَارَتْ أَنْ لَا ، فَقَالَ : فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا ، فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قصاص اور عدل ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات چھینے اور اس کا سر کچل دیا۔ جب اسے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس لایا گیا تو وہ بول نہیں سکتی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے مختلف نام لے کر پوچھا۔ جب غلط آدمیوں کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے نفی کی۔ جب قاتل کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے ہاں کہا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے قاتل کو سزا دی گئی۔ اس متن سے عدل، تحقیق اور مظلوم کے اشارے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فیصلے سے پہلے سوال کر کے حقیقت معلوم کی گئی۔
- مظلوم لڑکی کے اشارے کو واقعے میں اہم سمجھا گیا۔
- غلط ناموں پر اس نے نفی کی، قاتل کے نام پر اثبات کیا۔
- قاتل کے خلاف قصاص نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے نافذ ہوا۔
