صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۲ - مہینہ انتیس یا تیس دن کا ہوتا ہے
قمری مہینہ: انتیس اور تیس دن کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۳۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي ثَلَاثِينَ ، ثُمَّ قَالَ : وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، يَقُولُ مَرَّةً ثَلَاثِينَ وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی۔ پھر فرمایا اور اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قمری مہینہ ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے، یعنی تیس دن۔ پھر فرمایا کہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے، یعنی انتیس دن۔ ایک مرتبہ آپ صلى الله عليه وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔ اس حدیث میں اسلامی مہینے کے 29 یا 30 دن ہونے کو نہایت آسان اشارے سے سمجھایا گیا ہے۔ اس سے رمضان، عید، عدت اور دیگر قمری معاملات میں مہینے کی مدت سمجھنے کا بنیادی اصول سامنے آتا ہے، مگر متن میں چاند دیکھنے کی تفصیل اس روایت میں نہیں آئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔
- قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے بات آسان بنائی۔
- شرعی مدتوں میں قمری مہینہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
