صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۳ - یمن کی طرف ایمان کا اشارہ
ایمان یمن کی طرف: نرمی اور سختی کا فرق
صحیح بخاری : ۵۳۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : " وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ الْإِيمَانُ هَا هُنَا مَرَّتَيْنِ ، أَلَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " .
ابومسعود روایت:
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ایمان یمن ہے۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ایمان ادھر ہے، اور یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سختی اور دلوں کی قساوت کا ذکر ان کرخت آواز والوں میں کیا جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں، یعنی ربیعہ اور مضر میں۔ یہ حدیث یمن کی طرف ایمان کے اشارے اور بعض لوگوں کی سختی کے فرق کو بیان کرتی ہے۔ متن کے اندر رہتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک سمت کی تعریف اور ایک مخصوص سخت مزاجی کا ذکر فرمایا، عام لوگوں پر اضافی حکم نہیں لگایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کر کے ایمان کا ذکر فرمایا۔
- ایمان کا ذکر دو مرتبہ آیا۔
- سختی اور قساوت قلب کو مخصوص کرخت آواز والوں سے جوڑا گیا۔
- حدیث کو عمومی نفرت یا نسلی دعوے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
