صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۴ - یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں قریب
یتیم کی کفالت: جنت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے قریب ہونے کی بشارت
صحیح بخاری : ۵۳۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۰۴
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا " .
سہل روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع یتیم کی کفالت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ رکھی۔ حدیث میں یتیم کی کفالت کی فضیلت بہت واضح انداز میں آئی ہے۔ کفالت کا لفظ پرورش اور دیکھ بھال کے معنی میں آیا ہے، اس لیے اس میں ذمہ داری، شفقت اور عملی مدد کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ اس تشریح میں ہم اسی متن تک محدود رہتے ہیں: یتیم کا خیال رکھنے والے کے لیے جنت میں نبی صلى الله عليه وسلم کے قرب کی خوشخبری بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یتیم کی کفالت کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قرب کو دو انگلیوں کے اشارے سے سمجھایا۔
- کفالت صرف بات نہیں، عملی دیکھ بھال کا کام ہے۔
- حدیث یتیم کے ساتھ شفقت اور ذمہ داری کی ترغیب دیتی ہے۔
