صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۲ - طلاق کے بعد رہائش کا مسئلہ

طلاق کے بعد عورت کا گھر: عائشہ رضی اللہ عنہا کی تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۲۲

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، " أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا " ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .

قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار روایت:

یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی (عمرہ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے (شوہر کے) گھر سے لے آئے (عدت کے ایام گزرنے سے پہلے)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر (جہاں اسے طلاق ہوئی ہے) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ (مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ (انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی)۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا)۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک (فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں (میاں بیوی) کے درمیان کشیدگی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۲۲ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی واقعے کو بیان کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن حکم اپنی بیٹی کو طلاق کے بعد شوہر کے گھر سے لے آئے۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر پہنچی تو انہوں نے مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور اسے اس کے گھر واپس کر دو۔ گفتگو میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ پیش کیا گیا، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا حوالہ دینے کو مناسب دلیل نہیں سمجھا۔ اس حدیث میں عدت کا گھر، طلاق کے بعد رہائش اور شرعی احتیاط کا موضوع بہت صاف ہے۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر خاص واقعہ ہر عورت کے لیے عام حکم نہیں بنایا جاتا، خاص طور پر جب گھر چھوڑنے کا مسئلہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلاق کے بعد عورت کو فوراً گھر سے لے جانا پسندیدہ عمل نہیں بتایا گیا۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ سے ڈرنے کی تنبیہ کی۔
  • فاطمہ بنت قیس کے واقعے کو الگ نوعیت کا واقعہ سمجھا گیا۔
  • عدت اور رہائش کے معاملے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں