صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۱ - عورت کو نکاح سے نہ روکنے کا حکم

فلا تعضلوهن: عورت کو جائز نکاح سے نہ روکنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۳۱

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، " أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ ، فَطَلَّقَهَا ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ خَطَبَهَا ، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ أَنَفًا ، فَقَالَ : خَلَّى عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ يَخْطُبُهَا ، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ ، فَتَرَكَ الْحَمِيَّةَ وَاسْتَقَادَ لِأَمْرِ اللَّهِ " .

حسن بصری روایت:

معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، پھر انہوں نے انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد انہوں نے تنہائی میں عدت گزاری۔ عدت کے دن جب ختم ہو گئے تو ان کے پہلے شوہر نے ہی پھر معقل رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل کو اس پر بڑی غیرت آئی۔انہوں نے کہا جب وہ عدت گزار رہی تھی تو اسے اس پر قدرت تھی (کہ دوران عدت میں رجعت کر لیں لیکن ایسا نہیں کیا) اور اب میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے اور اپنی بہن کے درمیان میں حائل ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن‏» ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں مت روکو۔“ آخر آیت تک پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر یہ آیت سنائی تو انہوں نے ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ان کے شوہر نے طلاق دی، عدت گزر گئی، پھر اسی شوہر نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ کو غیرت آئی اور وہ اس نکاح کے درمیان رکاوٹ بن گئے۔ اس پر آیت نازل ہوئی کہ جب عورتیں اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو انہیں نکاح سے نہ روکو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معقل رضی اللہ عنہ کو آیت سنائی تو انہوں نے اپنی ضد چھوڑ دی اور اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ یہ حدیث نکاح، ولی، عدت کے بعد نکاح اور عورت کو جائز رشتے سے روکنے کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ اس میں اصل سبق یہ ہے کہ ذاتی ناراضی یا غیرت کو اللہ کے حکم پر غالب نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عدت ختم ہونے کے بعد عورت کو جائز نکاح سے روکنا درست نہیں۔
  • ذاتی ناراضی کو اللہ کے حکم کے مقابل نہیں لانا چاہیے۔
  • صحابی نے آیت سن کر اپنی ضد چھوڑ دی اور حکم مان لیا۔
  • نکاح کے معاملے میں عورت کے حق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں