صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۹ - عورت کے سوگ کی شرعی حد
مسلمان عورت کے لیے سوگ کی مدت کا حکم
صحیح بخاری : ۵۳۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۳۹
وَسَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ام حبیبہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی (کی وفات) کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم بیان ہوا ہے کہ مسلمان عورت، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، کسی کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ نہیں منائے گی، سوائے اپنے شوہر کے۔ شوہر کے لیے مدت چار مہینے دس دن بیان کی گئی ہے۔ یہ حدیث سوگ کی مدت، بیوہ کی عدت اور عورت کے شرعی آداب کے بارے میں بہت واضح ہے۔ غم انسان کے دل میں رہ سکتا ہے، مگر یہاں بات شرعی سوگ کے ظاہری احکام کی ہے۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ غیر شوہر کے لیے سوگ کی حد تین دن ہے، جبکہ شوہر کے لیے الگ مدت مقرر ہے۔ اسی لیے اس روایت کو سوگ کی حدیث اور بیوہ کی عدت کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر شوہر کے لیے سوگ کی حد تین دن سے زیادہ نہیں بتائی گئی۔
- شوہر کے انتقال پر عورت کی مدت چار ماہ دس دن ہے۔
- سوگ کے احکام ایمان اور آخرت کی یاد کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
- شرعی سوگ اور دل کے فطری غم میں فرق سمجھنا چاہیے۔
