صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۲ - سوگ میں سرمہ اور رنگین کپڑے کا حکم
شوہر کے سوگ میں سرمہ اور رنگین کپڑے سے پرہیز
صحیح بخاری : ۵۳۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۴۲
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ ، فَإِنَّهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ " .
ام عطیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوا شوہر کے وہ اس کے سوگ میں نہ سرمہ لگائے نہ رنگا ہوا کپڑا پہنے مگر یمن کا دھاری دار کپڑا (جو بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، سوائے شوہر کے۔ پھر شوہر کے سوگ میں یہ ہدایت بیان ہوئی کہ وہ سرمہ نہ لگائے اور رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، سوائے عصب کپڑے کے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع عورت کا سوگ، بیوہ کی عدت اور زینت سے بچنا ہے۔ الفاظ مختصر ہیں مگر حکم واضح ہے۔ اس میں خوشبو کی تفصیل نہیں آئی، بلکہ خاص طور پر سرمہ اور رنگے ہوئے کپڑے کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ سوگ کی مدت اور عدت کے آداب کے بارے میں یہ روایت عملی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر شوہر کے لیے سوگ تین دن سے زیادہ نہیں۔
- شوہر کے سوگ میں سرمہ سے پرہیز کا حکم آیا ہے۔
- رنگے ہوئے کپڑے سے پرہیز کا ذکر ہے، عصب کپڑے کی اجازت کے ساتھ۔
- عدت کے آداب میں سادگی کو سامنے رکھا گیا ہے۔
