صحیح بخاری حدیث ۵۳۶۸ - رمضان کے روزے کا کفارہ

رمضان کے روزے کا کفارہ: آسان اردو میں حدیث کی سمجھ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۶۸

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : فَأَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : لَيْسَ عِنْدِي ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ ؟ قَالَ : هَا أَنَا ذَا ، قَالَ : تَصَدَّقْ بِهَذَا ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، قَالَ : فَأَنْتُمْ إِذًا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں تو ہلاک ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر کیا بات ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر دو۔ (یہ کفارہ ہو جائے گا) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ لو۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔اس کے بعد آپ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان صاحب نے عرض کیا میں یہاں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لو اسے (اپنی طرف سے) صدقہ کر دینا۔ انہوں نے کہا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر؟ یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ کے مبارک دانت دکھائی دینے لگے اور فرمایا، پھر تم ہی اس کے زیادہ مستحق ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں ہلاک ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے کفارے کے طور پر پہلے غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کو فرمایا۔ اس نے کہا کہ طاقت نہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ اس نے کہا کہ اتنا بھی نہیں۔ پھر جب کھجوروں کا ٹوکرا آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے صدقہ کرنے کو فرمایا، مگر اس نے بتایا کہ وہ خود سب سے زیادہ محتاج ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لے جانے کی اجازت دے دی۔ یہ رمضان کفارہ حدیث نرمی، سوال کرنے اور اپنی حالت سچ بتانے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کے روزے کی حرمت کا خیال رکھنا لازم ہے۔
  • غلطی ہو جائے تو مسئلہ چھپانے کے بجائے شرعی رہنمائی لینی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سائل کی طاقت اور حالت کو سنا۔
  • کفارہ مرحلہ وار بیان ہوا: غلام آزاد کرنا، مسلسل روزے، یا مسکینوں کو کھانا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں