صحیح بخاری حدیث ۵۳۶۷ - نکاح میں گھر والوں کی ذمہ داری

نکاح کی حدیث: شادی میں ذمہ داری اور گھر والوں کا خیال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۶۷

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، أَوْ قَالَ : خَيْرًا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

میرے والد شہید ہو گئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا (راوی نے کہا کہ) نو لڑکیاں۔ چنانچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا، کنواری سے یا بیاہی سے۔ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے۔ فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عبداللہ (میرے والد) شہید ہو گئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے یا (راوی کو شک تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «خيرا‏.‏» فرمایا یعنی اللہ تم کو خیر عطا کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۳۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے۔ ان کے والد شہید ہو گئے تھے اور پیچھے کئی لڑکیاں چھوڑ گئے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے نکاح کیا یا بیاہی ہوئی سے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے کنواری سے نکاح کی بات فرمائی، مگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اپنی بہنوں کے لیے ایسی عورت لانا چاہتے تھے جو ان کی دیکھ بھال کرے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے برکت یا خیر کی دعا فرمائی۔ یہ نکاح کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ شادی میں صرف اپنی پسند نہیں، گھر کی ذمہ داری بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شادی کے فیصلے میں گھر والوں کی ضرورت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
  • حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہنوں کی دیکھ بھال کو اہم سمجھا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ذمہ دارانہ نیت پر دعا فرمائی۔
  • نکاح میں خوشی کے ساتھ سمجھ داری بھی ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں