صحیح بخاری حدیث ۵۴۰۰ - بھنا ہوا ساہنہ اور حلال کا سوال

بھنا ہوا ساہنہ کی حدیث: حرام نہیں مگر طبیعت ناپسند کرتی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۰۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ لِيَأْكُلَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ ضَبٌّ ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ ، فَقَالَ خَالِدٌ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي ، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ، فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ " . قَالَ مَالِكٌ : عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ .

خالد بن ولید روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیا تو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔امام مالک نے ابن شہاب سے «ضب محنوذ‏.‏» (یعنی بھنا ہوا ساہنہ «ضب مشوی» کی جگہ «محنوذ‏.‏» نقل کیا، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۰۰ کا خلاصہ

یہ بھنا ہوا ساہنہ کی حدیث حلال غذا کے بارے میں ایک صاف فرق بتاتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، مگر جب بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نہیں، لیکن یہ میرے علاقے میں نہیں ہوتا، اس لیے میری طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم دیکھتے رہے۔ اس روایت میں حرام اور ذاتی ناپسند کے درمیان فرق بہت واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ساہنہ کو حرام نہیں فرمایا۔
  • طبیعت کی ناپسند کو حرام کا حکم نہیں بنایا گیا۔
  • حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے اسے کھایا۔
  • کھانے کے بارے میں پوچھنا اور سمجھنا اچھا انداز ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں