صحیح بخاری حدیث ۵۴۰۲ - ساہنہ، پنیر اور دودھ کا ہدیہ
ساہنہ حلال ہے یا حرام؟ پنیر اور دودھ والی حدیث
صحیح بخاری : ۵۴۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۰۲
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِبَابًا وَأَقِطًا وَلَبَنًا ، فَوُضِعَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَتِهِ ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُوضَعْ وَشَرِبَ اللَّبَنَ وَأَكَلَ الْأَقِطَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دستر خوان پر رکھا گیا اور اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۰۲ کا خلاصہ
یہ ساہنہ حلال ہے یا حرام والی حدیث بہت مختصر مگر واضح ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کی خالہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت، پنیر اور دودھ ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ ساہنہ کا گوشت آپ صلى الله عليه وسلم کے دستر خوان پر رکھا گیا۔ روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صاف کہا کہ اگر ساہنہ حرام ہوتا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے دستر خوان پر نہ رکھا جاتا۔ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ہر چیز کو ایک جیسا نہیں لیا؛ دودھ اور پنیر تناول فرمایا، جبکہ ساہنہ کے بارے میں اصل دلیل یہ دی گئی کہ وہ دستر خوان پر رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ساہنہ کے گوشت کا نبی صلى الله عليه وسلم کے دستر خوان پر رکھا جانا بیان ہوا ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حرام نہ ہونے کی دلیل اسی واقعے سے دی۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔
- ہدیہ میں مختلف کھانے پیش کیے گئے تھے۔
