صحیح بخاری حدیث ۵۴۶۷ - نومولود کی تحنیک اور دعا

نومولود کی تحنیک: بچے کے لیے نام اور برکت کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۶۷

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى.

ابوموسیٰ روایت:

میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۴۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نومولود بچے کی تحنیک، اچھا نام رکھنے اور برکت کی دعا کا ذکر ہے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تو وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا نام ابراہیم رکھا، کھجور کو نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر بچہ والد کو واپس دے دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی پیدائش پر دینی خوشی کے ساتھ اچھا نام، دعا اور محبت والا رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔ تحنیک کی حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ بچہ والدین کے لیے امانت ہے، اس کے لیے خیر اور برکت مانگنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نومولود بچے کے لیے اچھا نام رکھنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • بچے کے لیے برکت کی دعا کرنا والدین کی محبت کا دینی انداز ہے۔
  • تحنیک کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے سے ثابت ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں