صحیح بخاری حدیث ۵۴۶۸ - بچے کے پیشاب پر پانی بہانا
بچے کے پیشاب کا حکم: نرمی، صفائی اور پاکی
صحیح بخاری : ۵۴۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۶۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی بہا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں تحنیک کے وقت ایک نومولود بچے کا واقعہ آیا ہے۔ بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرمائیں۔ اسی دوران بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پانی بہا دیا۔ اس حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ بچے کے ساتھ پیش آنے والی ایسی بات پر ناراضی یا سختی کا ذکر نہیں، بلکہ صفائی کا سیدھا اور آسان طریقہ بتایا گیا ہے۔ بچے کے پیشاب کی حدیث سے طہارت، صفائی اور بچوں کے ساتھ نرمی کا انداز سمجھ آتا ہے۔ یہ واقعہ مختصر ہے، اس لیے اس سے صرف وہی بات لی جائے گی جو متن میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناپاکی لگ جائے تو صفائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- بچوں کے معاملے میں نرمی اور تحمل کا رویہ بہتر ہے۔
- تحنیک کے موقع پر بھی پاکی اور صفائی کا خیال رکھا گیا۔
