صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۹ - بتوں کے نام پر ذبح اور اللہ کا نام
اللہ کے نام پر ذبح: بتوں کے نام پر ذبح کیے گوشت سے بچنا
صحیح بخاری : ۵۴۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۴۹۹
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نوفل سے مقام بلد کے نشیبی حصہ میں ملاقات ہوئی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ نے وہ دستر خوان جس میں گوشت تھا جسے ان لوگوں نے آپ کی ضیافت کے لیے پیش کیا تھا مگر ان پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا، آپ نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو جانور اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو میں انہیں نہیں کھاتا، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۴۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن عمرو بن نوفل کے ساتھ ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جو وحی نازل ہونے سے پہلے کا زمانہ تھا۔ ایک دسترخوان پیش کیا گیا جس میں گوشت تھا۔ روایت میں بیان ہے کہ اس گوشت پر ذبح کے وقت بتوں کا نام لیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زید بن عمرو کے سامنے واپس فرما دیا۔ زید بن عمرو نے کہا کہ میں وہ نہیں کھاتا جو تم اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو، میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس حدیث کا اصل سبق بہت صاف ہے: ذبح میں اللہ کا نام اصل معیار ہے، اور بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے گوشت سے بچنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا گوشت نہیں کھایا گیا۔
- ذبح کے وقت اللہ کا نام لینے کی بات صاف بیان ہوئی ہے۔
- واقعہ وحی نازل ہونے سے پہلے کے زمانے کا بتایا گیا ہے۔
- کھانے کے معاملے میں عقیدے کی پاکیزگی کا خیال رکھا گیا۔
