صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۰ - عید نماز سے پہلے قربانی کا حکم
قربانی کی حدیث: عید نماز سے پہلے ذبح کرنے کا حکم
صحیح بخاری : ۵۵۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۰۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَةً ذَاتَ يَوْمٍ ، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .
جندب بن سفیان بجلی روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے اپنی قربانیاں نماز سے پہلے ہی ذبح کر لی ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہو، اسے چاہیئے کہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے نہ ذبح کی ہو اسے چاہیئے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی۔ کچھ لوگوں نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی ذبح کر لی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ بعض لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے۔ اور جس نے ابھی ذبح نہیں کیا، وہ نماز کے بعد اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ اس حدیث میں قربانی کے وقت اور اللہ کے نام پر ذبح دونوں باتیں صاف بیان ہوئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی عید کی نماز سے پہلے نہیں کرنی چاہیے۔
- جس نے پہلے ذبح کیا، اسے دوسری قربانی کا حکم دیا گیا۔
- نماز کے بعد اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا ذکر ہے۔
- عبادت میں وقت کی پابندی اہم ہے۔
