صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۶ - فجر سے پہلے اور عصر کے بعد دو رکعت

فجر سے پہلے دو رکعت اور عصر کے بعد دو رکعت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إسحاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً : رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .

عائشہ روایت:

دو نمازیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں کبھی ترک نہیں کیں نہ چھپے، نہ کھلے دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو عصر کے بعد۔

صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں کبھی نہیں چھوڑیں، نہ پوشیدہ طور پر نہ کھلے طور پر: فجر سے پہلے دو رکعتیں اور عصر کے بعد دو رکعتیں۔ اس روایت میں دو الگ عمل بیان ہوئے ہیں۔ ایک فجر سے پہلے دو رکعت، جن کا ذکر بہت معروف ہے، اور دوسرا عصر کے بعد دو رکعت، جس کی وضاحت دوسری روایات میں سبب کے ساتھ آتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے عمل کی پابندی ہے۔ عام آدمی کے لیے اہم بات یہ ہے کہ حدیث کو اس کے الفاظ اور متعلقہ روایتوں کے ساتھ سمجھا جائے، تاکہ جلد بازی سے حکم نہ لگایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فجر سے پہلے دو رکعت کا عمل بیان کیا۔
  • اسی روایت میں عصر کے بعد دو رکعت کا ذکر بھی آیا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے عمل کو صحابہ نے محفوظ کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں