صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۷ - عصر کے بعد دو رکعت گھر میں
عصر کے بعد دو رکعت گھر میں پڑھنے کی روایت
صحیح مسلم : ۱۹۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۷
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، ومَسْرُوقٍ ، قَالَا : نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي كَانَ يَكُونُ عِنْدِي ، إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي ، تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری جس دن میرے گھر میں ہوتی اس دن ضرور دو رکعت پڑھتے یعنی عصر کے بعد کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۷ کا خلاصہ
اس روایت میں اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے گھر میں ہوتی، آپ میرے گھر میں یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے، یعنی عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مشاہدے کی گواہی ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس عمل کو بار بار دیکھا اور اسے بیان کیا۔ عصر کے بعد دو رکعت کے مسئلے میں یہ حدیث پچھلی روایات کے ساتھ مل کر سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر وہ روایت جس میں رہ جانے والی ظہر کے بعد کی دو رکعتوں کا سبب بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کیا۔
- روایت میں عصر کے بعد دو رکعت کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔
- دینی بات میں گواہی اور نقل کی احتیاط نظر آتی ہے۔
