صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۵ - عصر کے بعد دو رکعت کی پابندی
عصر کے بعد دو رکعت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی
صحیح مسلم : ۱۹۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۵
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ " .
عائشہ روایت:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں میرے ہاں کبھی نہیں چھوڑی تھیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۵ کا خلاصہ
اس مختصر مگر اہم روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع عصر کے بعد دو رکعت کا وہ عمل ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر میں دیکھا۔ یہ بات پچھلی روایات کے ساتھ مل کر سمجھ آتی ہے کہ ان دو رکعتوں کا ایک خاص سبب بھی بیان ہوا ہے۔ یہاں ہمیں صرف اتنی بات ملتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں یہ دو رکعتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت طور پر دیکھی گئیں۔ اس روایت کو عصر کے بعد نفل نماز کے سوال میں تنہا نہیں، متعلقہ روایات کے ساتھ سمجھنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عصر کے بعد دو رکعت کا عمل بیان کیا۔
- یہ روایت گھر کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی گواہی دیتی ہے۔
- مختصر روایت کو متعلقہ روایات کے ساتھ سمجھنا مفید ہے۔
