صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۴ - رہ جانے والی دو رکعت اور پابندی
عصر کے بعد دو رکعت: رہ جانے والی نماز کی ادائیگی
صحیح مسلم : ۱۹۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وقُتَيْبَةُ وعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، " أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ " ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا " . قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ : قَالَ إِسْمَاعِيلُ : " تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا " .
سیدنا ابوسلمہ روایت:
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ان دو رکعتوں کے بارے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کام ہو گیا یا بھول گئے تو عصر کے بعد پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے تو ہمیشہ پڑھا کرتے پھر اس کو بھی ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے، پھر ایک بار کسی کام کی وجہ سے یا بھول جانے سے وہ رہ گئیں، تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برقرار رکھا، اور آپ کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام فرماتے۔ اس حدیث میں اصل بات رہ جانے والی دو رکعت کی ادائیگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں پابندی ہے۔ یہ روایت عصر کے بعد دو رکعت کے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کے بعد پڑھی گئی دو رکعتیں پہلے عصر سے پہلے پڑھی جاتی تھیں۔
- ایک بار کام یا بھول کی وجہ سے وہ رکعتیں رہ گئیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر دوام فرماتے تھے۔
