صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۳ - عصر کے بعد دو رکعت کی وجہ
عصر کے بعد دو رکعت کیوں پڑھیں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح مسلم : ۱۹۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۳
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، والْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا ، وَسَلْهَا ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا ، قَالَ كُرَيْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ ، فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا ، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ ، فَقُلْتُ : قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ : تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى ، عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا ، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ ، قَالَ : فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ ، فَشَغَلُونِي ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ " .
کریب روایت:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور عبدالرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم ان سب نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہماری طرف سے ان کی خدمت میں سلام عرض کرو اور ان دو رکعتوں کا حال پوچھو جو بعد عصر کے پڑھی جاتی ہیں اور یہ عرض کرو کہ ہم کو خبر پہنچی ہے کہ آپ پڑھتی ہیں اور یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو اس کے پڑھنے سے باز رکھتا تھا (اس سے معلوم ہوا کہ حاکم کو ضروری ہے کہ رعیت کو خلاف شرع باتوں اور بدعتوں سے روکے اور باز رکھے) کریب نے کہا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور وہ بات پوچھی۔آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو (اس سے معلوم ہوا کہ مفتی کو اگر معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو سائل کو اس کے پاس بھیج دے اور اس ہے حسد نہ کرے) پھر میں ان لوگوں کے پاس آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کی ان کو خبر دی۔ (اس سے پیغام لے جانے والے کا ادب معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی رائے سے تصرف نہیں کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں بلکہ جنہوں نے بھیجا تھا ان کو اطلاع دے دی) پھر ان لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس روانہ کیا وہی پیغام دے کر جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گیا تھا۔تب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سنا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھ چکے تھے اور میرے گھر میں آئے اور میرے پاس قبیلہ بنی حرام انصار کی چند عورتیں بیٹھی تھیں تو میں نے ایک لڑکی کو بھیجا اور اس سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کھڑی رہنا اور ان سے عرض کرنا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا گزارش کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میں سنتی تھی کہ آپ ان رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور پھر آپ کو پڑھتے دیکھتی ہوں (اس سے معلوم ہوا کہ جب اپنے پیشوا سے کوئی خلاف دیکھے تو سوال کرے ادب سے۔ اگر وہ بھول گیا ہو گا تو اس سے باز آئے گا ورنہ اس کی حکمت بیان کرے گا) پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرف اشارہ کریں ہاتھ سے تو پیچھے کھڑی رہنا (معلوم ہوا کہ اشارہ کرنے سے نماز نہیں جاتی) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر اس لڑکی نے ایسا ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی ابو امیہ کی! تم نے ان رکعتوں کا حکم پوچھا جو عصر کے بعد میں نے پڑھیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ میرے پاس قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اسلام لائے تھے اور اپنی قوم کا پیغام تو میں ان میں مشغول رہا اور ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا وہ یہی تھیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں سوال کیا، پھر ان کے کہنے پر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان رکعتوں سے ممانعت سنی تھی، پھر آپ کو عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبدالقیس کے لوگ اسلام کا پیغام لے کر آئے تھے، ان کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں، یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔ اس حدیث میں سوال کرنے کا ادب، وضاحت طلب کرنا، اور رہ جانے والی نماز کی وجہ صاف بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے سوال کرتے تھے۔
- عصر کے بعد پڑھی گئی دو رکعتیں ظہر کے بعد رہ جانے والی رکعتیں تھیں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے بعد وجہ صاف بیان فرمائی۔
- اشارے سے نماز کے دوران بات سمجھانے کا ذکر بھی حدیث میں آیا ہے۔
