صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۲ - عصر کے بعد دو رکعت اور وقت کی احتیاط
عصر کے بعد دو رکعت اور طلوع و غروب کے وقت نماز کا حکم
صحیح مسلم : ۱۹۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۲
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا ، فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں چھوڑیں دو رکعتیں بعد عصر کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خاص کر اپنی نمازوں کو طلوع اور غروب آفتاب کے وقت پڑھنے کی عادت مت کرو کہ ہمیشہ اسی وقت ادا کیا کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتی ہیں کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کو خاص طور پر اپنی نمازوں کا وقت نہ بناؤ کہ اسی وقت نماز پڑھو۔ اس روایت میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: ایک طرف عصر کے بعد دو رکعت کا عمل نقل ہوا، دوسری طرف طلوع اور غروب کے وقت نماز کو خاص کرنے سے روکا گیا۔ اس لیے حدیث کو سمجھتے وقت صرف ایک جملہ نہیں، پورا مضمون سامنے رکھنا چاہیے۔ یہ روایت عصر کے بعد نفل، دو رکعت بعد عصر، اور نماز کے وقت کی احتیاط کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عصر کے بعد دو رکعت کا عمل بیان کیا۔
- طلوع اور غروب کے وقت کو خاص نماز کا وقت بنانے سے روکا گیا۔
- حدیث سمجھتے وقت اس کے پورے بیان کو سامنے رکھنا چاہیے۔
