صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۱ - طلوع و غروب کو نماز کے لیے خاص نہ کریں

طلوع و غروب کے وقت کو نماز کے لیے خاص کرنے کی ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : وَهِمَ عُمَرُ ، إِنَّمَا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا " .

عائشہ روایت:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے منع کیا ہے کہ کوئی طلوع اور مغرب کے وقت نماز پڑھے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۱ کا خلاصہ

اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہم ہوا، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی خاص طور پر سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔ اس حدیث میں ممانعت کے انداز کو سمجھنے کی اہم بات ہے۔ یعنی مسئلہ صرف نماز کا نہیں، بلکہ ان وقتوں کو جان بوجھ کر نماز کے لیے چننے کا ہے۔ یہ روایت طلوع آفتاب کے وقت نماز، غروب آفتاب کے وقت نماز، اور نماز کے ممنوع اوقات کے سوالات میں مفید ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام مسائل کو سمجھنے اور بیان کرنے میں بہت محتاط تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • طلوع اور غروب کے وقت کو خاص طور پر نماز کے لیے چننے سے منع کیا گیا ہے۔
  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ممانعت کی نوعیت واضح فرمائی۔
  • دینی بات بیان کرتے وقت اصل لفظ اور مقصد سمجھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں