صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۵ - سورج کے طلوع و غروب پر نماز نہ چنیں
سورج کے طلوع و غروب کے وقت نماز سے ممانعت کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۹۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۲۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ومُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ ، وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
ترجمہ اس کا وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے اس لیے کہ ”آفتاب شیطان کے سینگوں کے بیچ میں نکلتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نمازوں کے لیے سورج کے طلوع اور غروب کو خاص طور پر نہ چنو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کو نماز کے وقت میں ایسی مشابہت یا ایسا انتخاب نہیں کرنا چاہیے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہو۔ یہاں موضوع طلوع آفتاب کے وقت نماز، غروب آفتاب کے وقت نماز، اور ممنوع اوقات نماز ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ نماز کے لیے صرف نیت کافی نہیں، وقت کا درست ہونا بھی اہم ہے۔ بندہ جب نماز پڑھے تو وہ نبوی طریقے کے مطابق پڑھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طلوع آفتاب کو نماز کے لیے خاص وقت بنانے سے منع کیا گیا ہے۔
- غروب آفتاب کے وقت نماز کا ارادہ کرنے سے روکا گیا ہے۔
- نماز کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کو اہم سمجھنا چاہیے۔
