حدیث ۱۹۳۰

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۰

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : وَلَقِيَ شَدَّادٌ ، أَبَا أُمَامَةَ ، ووَاثِلَةَ ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ : كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ ، فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا ، فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَآءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا أَنْتَ ، قَالَ : " أَنَا نَبِيٌّ " ، فَقُلْتُ : وَمَا نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " أَرْسَلَنِي اللَّهُ " ، فَقُلْتُ : وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : " أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ " ، قُلْتُ لَهُ : فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " ، قَالَ : " وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ ، وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ " ، فَقُلْتُ : إِنِّي مُتَّبِعُكَ ، قَالَ : " إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا ، أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ ، فَأْتِنِي " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي ، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ ، وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ ، فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ ؟ فَقَالُوا : النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ ، أَخْبِرْنِي ، عَنِ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ ، حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ، ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ ، فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ : يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ ، فَقَالَ عَمْرٌو : يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي ، وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .

‏‏‏‏ عکرمہ بن عمار نے روایت کی شداد بن عبداللہ ابوعمار اور یحییٰ بن ابی کثیر سے یہ دونوں راوی ہیں ابی امامہ سے کہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے جو قبیلہ بنی سلم سے ہیں انہوں نے کہا کہ میں جاہلیت میں یقین کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں ہیں اور کسی راہ پر نہیں۔ اور وہ لوگ سب بتوں کو پوجتے تھے (یعنی چبوتروں کو یا مقاموں کو جیسے یہاں امام وغیرہ کے امام باڑہ چبوترے مشرک بنا لیتے ہیں) غرض انہوں نے کہا کہ میں نے خبر سنی ایک شخص کی کہ مکہ میں ہے اور وہ بہت سی خبریں دیتا ہے اور میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں چھپے ہوئے تھے اور ان کی قوم ان کے اوپر غالب اور مسلط تھی۔ پھر میں نے نرمی کی (یعنی حیلہ وغیرہ) اور میں مکہ میں داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا: ”میں نبی ہوں۔“ میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے پیغام دے کر بھیجا ہے۔“ میں نے کہا: آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پیغام دیا ہے، ناتے داروں سے نیکی کرنے کا اور بتوں کے توڑنے کا اور اکیلے اللہ کی عبادت کرنے کا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر عرض کیا کہ آپ کے ساتھ کون اس دین پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد اور غلام۔“ راوی نے کہا اور ان دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے۔ پھر میں نے عرض کیا: میں آپ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں تم سے نہ ہو سکے گا۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے مگر تم اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ پھر جب سننا کہ میں غالب ہو گیا تو میرے پاس آنا۔“ انہوں نے کہا: میں اپنے گھر چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور میں نے پوچھا کہ کیوں جی ان صاحب نے کیا کیا جو مدینہ میں آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں اور ان کی قوم نے ان کو مار ڈالنا چاہا مگر کچھ نہ کر سکے۔ پھر میں مدینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم وہی ہو جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے بتائیے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں نہیں جانتا اور مجھے نماز سے خبر دیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح کی نماز پڑھو، پھر نماز سے بچو یہاں تک کہ آفتاب نکل کر بلند ہو جائے، اس لئے کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں (پھر اگر تم بھی نماز پڑھو گے تو ان سے مشابہت ہو گی) پھر جب آفتاب بلند ہو جائے نماز پڑھو کہ اس وقت کی نماز کی کراماً کاتبین گواہی دیں گے اور فرشتے حاضر ہوں گے (یعنی مقبول ہو گی) یہاں تک کہ پھر سایہ نیزہ کا اس کے سر پر آ جائے (یعنی ٹھیک دوپہر ہو) تو پھر نماز نہ پڑھو اس لئے کہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ آ جائے (یعنی سورج ڈھلے) پھر نماز پڑھو اس لئے کہ اس نماز میں فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ پڑھو تم عصر کو۔ پھر رکے رہو نماز سے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو جائے اس لئے کہ وہ ڈوبتا ہے شیطان کے دونوں سینگوں کے بیچ میں۔ اور اس وقت کافر بھی اسے سجدہ کرتے ہیں۔“ پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اب وضو (کے بارے میں) بھی فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے کہ وضو کا پانی لے کر کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے اور ناک جھاڑے مگر گر جاتے ہیں اس سے چہرہ اور منہ اور نتھنوں کے سب گناہ۔ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا اللہ نے حکم کیا ہے تو گر جاتے ہیں اس کے چہرہ کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ۔ پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں تک تو گر جاتے ہیں دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ۔ پھر سر کا مسح کرتا ہے تو گر جاتے ہیں اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کی نوکوں سے پانی کے ساتھ۔ پھر اپنے دونوں پیر دھوتا ہے ٹخنوں تک تو گر جاتے ہیں دونوں پیروں کے گناہ انگلیوں کے پوروں سے پانی کے ساتھ۔ پھر اگر وہ کھڑا ہوا اور اس نے نماز پڑھی اور اللہ کی تعریف کی اور خوبیاں بیان کیں اور بڑائی کی جیسی کہ اس کی شان کو لائق ہے اور اپنے دل کو خاص اسی کے لیے اس کے غیر سے خالی کیا تو وہ بے شک اپنے گناہوں سے ایسا صاف ہو گیا گویا اس کی ماں نے آج ہی جنا ہے۔“ پھر یہ حدیث عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی جو صحابی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا کہتے ہو کہیں ایک جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے؟ (یعنی تمہارے بیان میں کچھ فرق ہے) تب سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوامامہ! میں بوڑھا ہوں اور میری ہڈیاں گل گئی اور موت کے کنارے ہو چکا، پھر مجھے کیا ضرورت جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک، دو، تین بار، سات بار تک سنتا تو بھی کبھی بیان نہ کرتا مگر میں نے اس سے بھی زیادہ بار سنا ہے (جب یہ بیان کیا۔ غرض یہ ہے کہ خوب تحقیق رکھتا ہوں نہ یہ کہ سات بار سے کم اگر سنے تو روایت روا نہیں)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں