صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۸ - مغرب سے پہلے دو رکعت کا عمل
مغرب سے پہلے دو رکعت: صحابہ کا عمل اور نبوی خاموشی
صحیح مسلم : ۱۹۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۳۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، جميعا ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِي عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَكُنَّا نُصَلِّي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا ؟ " قَالَ : " كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا " .
مختار بن فلفل روایت:
میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان نفلوں کے بارے میں پوچھا جو عصر کے بعد پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہاتھ مارتے تھے نماز پر جو لوگ بعد عصر کے پڑھتے تھے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو رکعت پڑھتے تھے بعد غروب آفتاب کے نماز مغرب سے پہلے، سو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو پڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے اور نہ اس کا حکم کرتے (یعنی بطریق وجوب کے) اور نہ اس سے منع فرماتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں مختار بن فلفل نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد نفل کے بارے میں پوچھا۔ جواب میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں کو روکتے تھے، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے، غروب آفتاب کے بعد، دو رکعت پڑھتے تھے۔ جب پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ دو رکعت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ہمیں پڑھتے دیکھتے تھے، نہ حکم دیتے تھے اور نہ منع کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع مغرب سے پہلے دو رکعت اور اس کے اختیاری ہونے کا انداز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھتے دیکھا، مگر نہ حکم دیا نہ منع فرمایا۔
- عصر کے بعد نفل کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی کا ذکر آیا ہے۔
