صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۱ - پتھر سے بکری ذبح کرنے کا حکم
پتھر سے ذبح کی حدیث: مرنے والی بکری کا حکم
صحیح بخاری : ۵۵۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۰۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : لَا تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ ، أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا " .
´ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ` ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی (چراتے وقت ایک مرتبہ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا (انہوں نے یہ کہا کہ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر کا واقعہ ہے۔ ان کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے، تو اس نے پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے گھر والوں سے کہا کہ اسے نہ کھانا، جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں یا کسی کو پوچھنے کے لیے نہ بھیج دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے اس کے کھانے کی اجازت دی۔ اس حدیث میں دینی احتیاط، مسئلہ پوچھنا، اور پتھر سے ذبح کی گئی بکری کے کھانے کی اجازت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکوک معاملے میں کھانے سے پہلے حکم پوچھا گیا۔
- لونڈی نے مرنے سے پہلے بکری کو ذبح کر لیا۔
- پتھر سے ذبح کی گئی بکری کے کھانے کی اجازت دی گئی۔
- کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے جلد بازی کے بجائے مسئلہ معلوم کیا۔
