صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۲ - سلع پہاڑی پر بکری کا ذبح
سلع پہاڑی کی بکری: پتھر سے ذبح کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۰۲
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ : " أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ وَهُوَ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا " .
´ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ` کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو ”سوق مدنی“ میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۰۲ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع نامی پہاڑی کے قریب بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری کو تکلیف پہنچی اور وہ مرنے کے قریب ہو گئی۔ لونڈی نے ایک پتھر توڑا اور اس سے بکری کو ذبح کر لیا۔ پھر لوگوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ اس حدیث میں اصل بات صرف یہ ہے کہ جانور مرنے سے پہلے ذبح کیا گیا، آلہ پتھر تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کے بعد اسے کھانے کی اجازت ملی۔ اس میں زیادہ تفصیل متن میں موجود نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بکری مرنے کے قریب تھی تو اسے مرنے سے پہلے ذبح کیا گیا۔
- ذبح کے لیے پتھر استعمال ہونے کا ذکر ہے۔
- مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے کھانے کی اجازت دی۔
