صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۰ - پہلے نماز پھر قربانی

پہلے نماز پھر قربانی: عید الاضحی کا صحیح ترتیب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۶۰

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .

براء بن عازب روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے (عید کی نماز سے پہلے) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۵۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کا مضمون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز سے شروع کریں گے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا۔ اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کر لیا، وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا، وہ قربانی میں کچھ بھی نہیں۔ پھر ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ انہوں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے اور ان کے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے جو سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاص اجازت دی اور فرمایا کہ تمہارے بعد کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عید الاضحی میں پہلے نماز، پھر قربانی کا ترتیب بیان ہوا۔
  • نماز سے پہلے ذبح کیا جانور قربانی نہیں، گھر والوں کے لیے گوشت ہے۔
  • جو اس ترتیب پر عمل کرے وہ سنت کو پا لیتا ہے۔
  • ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی اجازت خاص طور پر انہی کے لیے تھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں