صحیح بخاری حدیث ۵۶۵۷ - غیر مسلم مریض کی عیادت
غیر مسلم مریض کی عیادت اور اسلام کی دعوت کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۵۷
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ غُلَامًا لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : أَسْلِمْ " . فَأَسْلَمَ ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ : لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
انس روایت:
ایک یہودی لڑکا (عبدوس نامی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو نبی صلى الله عليه وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے، چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی روایت میں سعید بن مسیب کا اپنے والد سے یہ بیان بھی آیا ہے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی صلى الله عليه وسلم ان کے پاس عیادت کے لیے گئے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع غیر مسلم مریض کی عیادت، دعوت اسلام اور مریض کی دل جوئی ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے عیادت کو خیر کی بات پہنچانے کا موقع بنایا، مگر الفاظ مختصر اور صاف رکھے۔ اس روایت سے عیادت کے اخلاقی پہلو کے ساتھ دعوت کا نرم انداز بھی سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک یہودی لڑکے کی عیادت کی۔
- مریض کے پاس خیر کی بات مختصر اور صاف انداز میں کہی جا سکتی ہے۔
- عیادت صرف رسمی ملاقات نہیں، دل جوئی کا موقع بھی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اسلام کی دعوت نرم الفاظ میں دی۔
