صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۷ - بیماری کی تکلیف سے گناہ جھڑتے ہیں
بیماری کی تکلیف پر گناہ معاف ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۶۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۶۷
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، قَالَ : أَجَلْ ، كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، قَالَ : لَكَ أَجْرَانِ ، قَالَ : نَعَمْ ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم میں کے دو آدمیوں کے برابر ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہے۔ کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیماری اور تکلیف ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، اور بخار اتنا سخت تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم میں سے دو آدمیوں کے بخار کے برابر ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام بات بیان فرمائی کہ جب کسی مسلمان کو مرض، بخار یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کی تکلیف اللہ کے ہاں گناہوں کے کم ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ بخار کی حدیث میں یہی پیغام ہے کہ مرض اور جسمانی تکلیف خالی تکلیف نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے گناہوں کے جھڑنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سخت بخار ہوا، اس لیے بیماری انسان کے بلند مقام کے خلاف نہیں۔
- مسلمان کو مرض یا کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ اس کے گناہ جھاڑ دیتا ہے۔
- حدیث میں بیماری اور تکلیف کو گناہوں کے کم ہونے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت بخار کے ساتھ دو گنا اجر کا ذکر آیا ہے۔
