صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۸ - وصیت، ورثاء کا حق اور نیت کی اہمیت

وصیت کی حدیث: ورثاء کا حق اور اللہ کی رضا کے لیے خرچ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۶۸

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَقُلْتُ : بَلَغَ بِي مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : بِالشَّطْرِ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : الثُّلُثُ ؟ ، قَالَ : الثُّلُثُ كَثِيرٌ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَلَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ " .

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو زہری نے خبر دی، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں حجۃ الوداع کے زمانہ میں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا میں نے عرض کیا کہ میری بیماری جس حد کو پہنچ چکی ہے اسے آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب دولت ہوں اور میری وارث میری صرف ایک لڑکی کے سوا اور کوئی نہیں تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھا کر دوں، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بہت کافی ہے اگر تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہو گا اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۸ کا خلاصہ

یہ حدیث وصیت، صدقہ، ورثاء کے حق اور نیت کی اہمیت کو بہت صاف انداز میں سمجھاتی ہے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سخت بیمار تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر انہوں نے آدھے مال کا پوچھا، اس سے بھی منع فرمایا۔ جب ایک تہائی کا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بھی بہت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وصیت کرتے وقت اپنے وارثوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث کا دوسرا بڑا پیغام یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا گیا خرچ اجر کا سبب بنتا ہے۔ یہاں تک کہ بیوی کے منہ میں دیا ہوا لقمہ بھی، اگر اللہ کی رضا مقصود ہو، ثواب کا کام بن سکتا ہے۔ اس لیے اسلام میں نیت، گھر والوں کا حق، اور مال کے معاملے میں اعتدال بہت اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وصیت میں اتنا مال نہ دیا جائے کہ ورثاء محتاج رہ جائیں۔
  • ایک تہائی مال کی وصیت کی اجازت دی گئی، مگر حدیث میں اسے بھی زیادہ کہا گیا ہے۔
  • اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا خرچ اجر کا سبب بنتا ہے۔
  • بیوی اور گھر والوں پر خرچ بھی نیک نیتی کے ساتھ ثواب والا عمل بن سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں