صحیح بخاری حدیث ۵۷۱۹ - جھاڑ پھونک اور داغ سے علاج
جھاڑ پھونک اور داغ لگانے کی حدیث: علاج کے خاص مواقع
صحیح بخاری : ۵۷۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۱۹
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ " ، قَالَ أَنَسٌ : كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي .
حماد روایت:
ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۷۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع علاج ہے، خاص طور پر جھاڑ پھونک اور داغ لگانے کا ذکر۔ روایت میں آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں انہیں داغا گیا تھا، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔ اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں داغا۔ اس حدیث میں جھاڑ پھونک کی حدیث، داغ لگا کر علاج، ذات الجنب، کان کی تکلیف، اور زہریلے جانور کا کاٹنا جیسے الفاظ اہم ہیں۔ متن میں علاج کے خاص مواقع بیان ہوئے ہیں، عام دعوے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زہریلے جانور کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت کا ذکر ہے۔
- حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ذات الجنب میں داغ لگایا گیا۔
- داغ لگانے کے وقت چند صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔
- حدیث میں علاج کے مخصوص واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
