صحیح بخاری حدیث ۵۷۲۰ - رقیہ اور داغ کا علاج

رقیہ کی حدیث: زہریلے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں اجازت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۲۰

حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ " ، قَالَ أَنَسٌ : كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي .

حماد روایت:

ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع رقیہ اور علاج ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی۔ اسی روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ذات الجنب کی بیماری میں انہیں داغا گیا، اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔ ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اس موقع پر موجود تھے، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ لگایا۔ اس حدیث کے لیے رقیہ کی حدیث، جھاڑ پھونک، داغ کا علاج، ذات الجنب، اور کان کی بیماری کے الفاظ اہم ہیں۔ حدیث ہمیں صرف اتنا بتاتی ہے کہ ان خاص صورتوں میں اجازت اور عمل کا ذکر ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زہریلے جانور کے کاٹنے پر رقیہ کی اجازت کا ذکر ہے۔
  • کان کی تکلیف میں بھی جھاڑنے کی اجازت بیان ہوئی۔
  • ذات الجنب میں داغ لگانے کا واقعہ نقل ہوا۔
  • ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو داغ لگایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں