صحیح بخاری حدیث ۵۷۲۱ - علاج میں رقیہ کی اجازت

علاج میں رقیہ اور داغ لگانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۲۱

حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ " ، قَالَ أَنَسٌ : كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي .

حماد روایت:

ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۷۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع علاج کے خاص طریقے ہیں۔ روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانور کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت کا ذکر ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ ذات الجنب کی بیماری میں انہیں داغا گیا تھا، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہوا۔ اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے داغ لگایا۔ اس حدیث میں رقیہ، جھاڑ پھونک، داغ لگا کر علاج، ذات الجنب، اور زہریلے کاٹنے جیسے الفاظ اہم ہیں۔ حدیث کو اسی مخصوص دائرے میں سمجھنا چاہیے جس میں یہ روایت آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زہریلے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں رقیہ کی اجازت آئی ہے۔
  • ذات الجنب میں داغ لگانے کا واقعہ بیان ہوا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی کا ذکر روایت میں ہے۔
  • حدیث مخصوص علاج کے واقعات تک محدود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں