صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۳ - تکبر سے کپڑا گھسیٹنا
تکبر سے کپڑا گھسیٹنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۷۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۸۳
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يخبرونه ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۳ کا خلاصہ
یہ کپڑا گھسیٹنے کی حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر اور غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع لباس نہیں بلکہ لباس کے ساتھ آنے والا تکبر ہے۔ متن میں خیلاء یعنی غرور کا لفظ مرکزی ہے۔ اس لیے اسے بیان کرتے وقت یہ بات صاف رکھنی چاہیے کہ حدیث میں کپڑا گھسیٹنے کا ذکر تکبر کے ساتھ آیا ہے۔ مسلمان کے لیے لباس میں سادگی، عاجزی اور غرور سے بچنا اہم ہے۔ ظاہری انداز دل کی کیفیت کے ساتھ جڑ سکتا ہے، اس لیے نیت اور رویہ دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکبر کے ساتھ کپڑا گھسیٹنا سخت وعید کا سبب بتایا گیا ہے۔
- لباس میں غرور اور دکھاوے سے بچنا چاہیے۔
- حدیث میں اصل سبب خیلاء یعنی تکبر بیان ہوا ہے۔
